تمہید: وہ ساتھی جو کبھی نہیں ڈگمگایا
تاریخ میں بڑے بڑے لوگ آئے، لیکن "عبداللہ بن ابی قحافہ" (ابوبکر) کا مقام سب سے الگ ہے۔ وہ نبی نہیں تھے، لیکن وہ نبوت کے بعد سب سے اونچے درجے "صدیقیت" پر فائز تھے۔ وہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے، غار کے ساتھی، اور پہلے خلیفہ تھے جنہوں نے امت کو بکھرنے سے بچایا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر میں اللہ کے سوا کسی کو جگری دوست (خلیل) بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔" اس مضمون میں ہم صرف تاریخ پیدائش نہیں پڑھیں گے، بلکہ اس "پہاڑ جیسے انسان" کے وہ واقعات پڑھیں گے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
انہیں "صدیق" کیوں کہا گیا؟ (اٹل ایمان)
معراج کی صبح جب کفار مکہ نبی ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے کہ "ایک رات میں بیت المقدس جا کر کیسے واپس آ گئے؟"، تو وہ ابوبکرؓ کے پاس گئے تاکہ ان کے ایمان کو متزلزل کریں۔ انہوں نے پوچھا: "کیا تم نے سنا تمہارا دوست کیا کہہ رہا ہے؟" ابوبکر نے دلیل نہیں مانگی، بس ایک جملہ کہا: "اگر انہوں نے کہا ہے، تو سچ کہا ہے۔" اس دن اللہ نے انہیں سات آسمانوں کے اوپر سے "الصدیق" (سب سے سچا) کا لقب دیا۔
زندگی کے اہم ترین لمحات (جب سب کے ہوش اڑ گئے)
1. ہجرت کا دن (غارِ ثور):
جب کفار غار کے منہ پر کھڑے تھے، ابوبکرؓ کا دل کانپ رہا تھا، اپنی جان کے لیے نہیں بلکہ نبی ﷺ کے لیے۔ انہوں نے سرگوشی کی: "یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے اپنے پاؤں کی طرف دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لیں گے۔" نبی ﷺ نے اطمینان سے فرمایا: "اے ابوبکر! ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟" وہ سفر میں نبی ﷺ کے لیے ڈھال بنے رہے، کبھی آگے چلتے کبھی پیچھے۔
2. نبی ﷺ کی وفات (فیصلہ کن گھڑی):
جس دن رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا، مدینہ میں اندھیرا چھا گیا۔ عمر فاروقؓ جیسے بہادر نے تلوار نکال لی اور کہا: "جو کہے گا محمد ﷺ مر گئے، میں اس کا سر کاٹ دوں گا!"۔ اس افراتفری میں ابوبکرؓ (جو نرم دل تھے) لوہے کی طرح مضبوط ہو کر نکلے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے ماتھے کو چوما اور فرمایا: "آپ زندگی اور موت دونوں میں پاکیزہ ہیں۔" پھر ممبر پر چڑھ کر تاریخی جملہ کہا: "جو محمد (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد (ﷺ) وفات پا گئے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے اسے موت نہیں۔" یہ سن کر عمرؓ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور امت کو ہوش آیا۔
3. فتنہ ارتداد (جب اسلام خطرے میں تھا):
نبی ﷺ کے بعد عرب قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کر دیا۔ صحابہ نے نرمی کا مشورہ دیا، لیکن ابوبکرؓ شیر کی طرح گرجے: "کیا دین میں کمی ہو جائے اور میں زندہ رہوں؟ اللہ کی قسم! اگر یہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے روکیں گے جو وہ رسول اللہ کو دیتے تھے، تو میں ان سے جنگ کروں گا۔" انہوں نے اکیلے دم پر اسلام کو بچایا اور جزیرہ عرب کو دوبارہ جوڑا۔
ان کی سخاوت (گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟)
غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ نے چندہ مانگا۔ عمرؓ اپنے مال کا آدھا حصہ لائے اور سوچا آج میں ابوبکر سے آگے نکل جاؤں گا۔ لیکن ابوبکرؓ اپنا "سارا مال" لے آئے۔ نبی ﷺ نے پوچھا: "گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟" انہوں نے جواب دیا: "ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔" عمرؓ رو پڑے اور کہا: "میں آپ سے کبھی نیکی میں نہیں جیت سکتا۔"
اختتامیہ: کیا ہم ان سے محبت کرتے ہیں؟
ابوبکرؓ کی محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ وہ صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں، بلکہ وفا، قربانی اور استقامت کا دوسرا نام ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہو، انہوں نے بعد میں آنے والوں کو تھکا دیا (کہ کوئی ان جیسا نہیں بن سکتا)۔