**تمہید: سچی محبت کہاں ملے گی؟**
آج کے دور میں ہر شخص تنہائی اور بے سکونی کا شکار ہے۔ ہم لوگوں سے وفاداری اور محبت کی امید رکھتے ہیں، لیکن اکثر ہمیں مایوسی ملتی ہے۔ ایسے میں دل کو سکون دینے والا صرف ایک نام ہے: **"الودود"**۔ یعنی وہ ذات جو اپنے بندوں سے شدید محبت کرتی ہے اور اپنی محبت کا اظہار بھی کرتی ہے۔
**الودود کا گہرا مفہوم**
عربی میں "حب" صرف دل کے جذبے کو کہتے ہیں، لیکن "ود" اس محبت کو کہتے ہیں جو عمل سے ظاہر ہو۔ اللہ الودود ہے کیونکہ:
1. **وہ نعمتوں سے محبت جتاتا ہے:** آپ اللہ کو بھول جاتے ہیں، لیکن وہ آپ کو رزق دینا نہیں بھولتا۔ وہ آپ کی نافرمانی کے باوجود آپ کی پردہ پوشی کرتا ہے۔ یہ اس کا "ود" ہے۔
2. **توبہ کرنے والوں کا محبوب:** قرآن میں آتا ہے: "بے شک میرا رب رحیم بھی ہے اور ودود بھی۔" جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے ایسے گلے لگاتا ہے جیسے کوئی بچھڑا ہوا دوست مل گیا ہو۔
**زندگی میں اس نام کا اثر**
* **میاں بیوی میں محبت:** اگر گھر میں جھگڑے ہوں یا میاں بیوی میں ناچاقی ہو، تو "یا ودود" کا کثرت سے ورد کریں۔ اللہ پتھر دلوں میں بھی موم جیسی نرمی اور محبت پیدا کر دے گا۔
* **خلقِ خدا سے محبت:** جو اللہ سے محبت کرتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق سے نفرت نہیں کر سکتا۔ لوگوں کے ساتھ مسکرا کر ملنا اور نرمی سے بات کرنا الودود کی صفت اپنانا ہے۔
**عمل اور وظیفہ**
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آسمان والا اور زمین والے آپ سے محبت کریں، تو نمازوں کا اہتمام کریں اور کثرت سے **"یَا وَدُودُ یَا وَدُودُ"** پڑھیں۔ اللہ آپ کے چہرے پر ایسا نور اور دلوں میں ایسی کشش پیدا کر دے گا کہ ہر کوئی آپ کی عزت کرے گا۔
**اختتامیہ**
دنیا کی محبت فانی ہے، لیکن الودود کی محبت لافانی ہے۔ اپنے تنہا دل کو اس کی یاد سے آباد کریں، آپ کو ایسی لذت ملے گی کہ دنیا کی ہر تکلیف چھوٹی لگنے لگے گی۔