تمہید: قرآن کی ملکہ
قرآن کریم میں 6236 آیات ہیں، لیکن صرف ایک آیت ایسی ہے جسے "سب سے عظیم" ہونے کا درجہ ملا ہے۔ وہ "آیت الکرسی" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک بار اپنے صحابی حضرت ابی بن کعبؓ سے پوچھا: "اللہ کی کتاب میں سب سے عظمت والی آیت کون سی ہے؟" انہوں نے کہا: "اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔" جب آپ ﷺ نے بار بار پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: "اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم"۔ نبی ﷺ نے خوشی سے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: "اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو۔" یہ آیت صرف یاد کرنے کے الفاظ نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کا اپنی ذات کا تعارف ہے۔ یہ وہ آیت ہے جسے پڑھنے سے شیطان ذلیل ہو کر گھر سے بھاگ جاتا ہے۔ اس مضمون میں ہم اس آیت کے سمندر میں غوطہ لگائیں گے اور جانیں گے کہ یہ آپ کا سب سے مضبوط قلعہ کیسے بن سکتی ہے۔
یہ سب سے عظیم آیت کیوں ہے؟
اس کی عظمت کا راز اس میں موجود "توحید" اور اللہ کی صفات کا بیان ہے۔ اس میں 10 مکمل جملے ہیں، اور ہر جملہ اللہ کی ایک خاص صفت بیان کرتا ہے:
1. اسمِ اعظم: (اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ)۔ شروعات اللہ کے نام سے، جو تمام ناموں کا مجموعہ ہے۔
2. زندگی اور نظام: (الْحَيُّ الْقَيُّومُ)۔ "الحی" یعنی ہمیشہ زندہ رہنے والا جسے موت نہیں، اور "القیوم" جو خود قائم ہے اور پوری کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔
3. کمزوری سے پاک: (لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ)۔ "سنۃ" کا مطلب ہے اونگھ (نیند کا جھونکا)۔ دنیا کے بادشاہ سوتے ہیں اور غافل ہوتے ہیں، لیکن کائنات کا بادشاہ ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوتا۔ اگر وہ سو جائے تو نظامِ کائنات درہم برہم ہو جائے!
آیت الکرسی کے فضائل (انمول خزانے)
1. سوتے وقت کا محافظ:
حضرت ابوہریرہؓ کا مشہور واقعہ ہے جب انہوں نے شیطان کو (جو چور کی شکل میں آیا تھا) پکڑا۔ شیطان نے اپنی جان چھڑانے کے لیے انہیں ایک نسخہ بتایا: "جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو، اللہ کی طرف سے تم پر ایک محافظ مقرر کر دیا جائے گا اور صبح تک کوئی شیطان تمہارے قریب نہیں آئے گا۔" نبی ﷺ نے یہ سن کر فرمایا: "اس نے سچ کہا، حالانکہ وہ بہت جھوٹا ہے۔"
2. جنت کی چابی:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے، اسے جنت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔" یعنی موت آتے ہی وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔
3. شیاطین کا توڑ:
جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے وہاں سے شیطان بھاگ جاتا ہے، اور آیت الکرسی سورہ بقرہ کی سردار ہے۔ یہ جادو، جنات اور نظر بد کے خلاف سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔
"کرسی" کا مطلب اور اللہ کی عظمت
(وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ)۔
کرسی کیا ہے؟ حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ کرسی "اللہ کے دونوں قدموں کی جگہ" ہے (جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے)، اور یہ "عرش" سے الگ ہے جو اس سے بھی بڑا ہے۔
اس کی وسعت کا اندازہ لگائیں:
نبی ﷺ نے فرمایا: "ساتوں آسمان کرسی کے مقابلے میں ایسے ہیں جیسے ایک وسیع صحرا میں پڑا ہوا چھوٹا سا چھلا (Ring)، اور عرش کی فضیلت کرسی پر ایسی ہے جیسے اس صحرا کی فضیلت چھلے پر۔"
سبحان اللہ! یہ پوری کائنات، کہکشائیں اور آسمان اللہ کی کرسی کے سامنے ایک ذرے کے برابر ہیں۔ تو پھر عرش کتنا بڑا ہوگا؟ اور عرش کا رب کتنا بڑا ہوگا؟ یہ تصور دل کو اللہ کی عظمت سے بھر دیتا ہے اور دنیا کی پریشانیاں بہت چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔
اپنی حفاظت کیسے کریں؟
1. ہر نماز کے بعد: اسے اپنی عادت بنا لیں، کبھی نہ چھوڑیں۔
2. صبح و شام کے اذکار: صبح ایک بار پڑھنے سے شام تک، اور شام کو پڑھنے سے صبح تک حفاظت رہتی ہے۔
3. سوتے وقت: بستر پر لیٹ کر پڑھیں تاکہ اللہ کا فرشتہ آپ کی حفاظت کرے۔
اختتامیہ: اپنے ہتھیار کے بغیر نہ نکلیں
آیت الکرسی وہ "ڈھال" ہے جو اللہ نے آپ کو دی ہے تاکہ آپ زندگی کے خطرات میں محفوظ رہ سکیں۔ کیا یہ عقلمندی ہے کہ انسان اس ڈھال کو چھوڑ کر شیاطین کے سامنے نہتا ہو جائے؟ اسے یاد کریں، اپنے بچوں کو سکھائیں، اور اپنے گھر میں اس کی تلاوت جاری رکھیں، تاکہ "الحی القیوم" کے نور سے آپ کا گھر روشن اور محفوظ رہے۔