تمہید: قبر کا تحفہ مرنے کے بعد انسان کا عمل ختم ہو جاتا ہے، لیکن اس کا رشتہ زندوں سے نہیں ٹوٹتا۔ قبر میں میت ایک ڈوبتے ہوئے انسان کی طرح ہوتی ہے جو دعا کا منتظر رہتا ہے۔ اگر آپ اپنے مرحوم والدین یا رشتہ داروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں، تو ان کے لیے دعا سے بہتر کوئی تحفہ نہیں۔
میت کے لیے بہترین دعا نبی کریم ﷺ جنازے میں یہ دعا پڑھتے تھے، اور یہ مغفرت کی سب سے جامع دعا ہے:
((اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ...))
ترجمہ: "اے اللہ! اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم کر، اسے عافیت دے اور اسے معاف کر دے۔ اس کی مہمانی باعزت کر، اور اس کی قبر کو کشادہ کر دے۔ اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اسے گناہوں سے ایسے پاک کر دے جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔۔۔ اور اسے جنت میں داخل کر اور قبر اور جہنم کے عذاب سے بچا۔"
ہم اور کیا کر سکتے ہیں؟
-
صدقہ جاریہ: ان کے نام پر نلکا لگوانا، مسجد میں حصہ ڈالنا یا قرآن تقسیم کرنا۔
-
قرض کی ادائیگی: میت کا قرض فوراً ادا کریں، کیونکہ قرض کی وجہ سے روح کو روک دیا جاتا ہے۔
-
ایصالِ ثواب: قرآن پڑھ کر یا ذکر کر کے اللہ سے دعا کریں کہ اس کا ثواب مرحوم کو پہنچے۔
اختتامیہ اپنے پیاروں کو بھولیں نہیں۔ آپ کی ایک مخلصانہ دعا ان کی قبر کو جنت کا باغ بنا سکتی ہے۔ ہاتھ اٹھائیں اور ان کے لیے بخشش مانگیں، اللہ آپ کی دعا رد نہیں کرے گا۔