"نوجوانی کے مسائل اور والدین کا کردار: اپنی اولاد کو دوست بنائیں ورنہ وہ ہاتھ سے نکل جائے گی"

29 دسمبر 2025
A father and his teenage son walking outdoors in a park, talking and laughing together like friends, symbolizing a healthy bond and mentorship.

تمہید: دوستی کا وقت نوجوانی ایک طوفانی دور ہے۔ اس عمر میں بچہ اپنی الگ پہچان بنانا چاہتا ہے۔ والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ "بچہ بدتمیز ہو گیا ہے"۔ دراصل وہ بدتمیز نہیں، وہ اپنی آزادی مانگ رہا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ اس عمر میں بچے کو "غلام" نہیں بلکہ "وزیر" اور "دوست" بناؤ۔

نبی ﷺ کا طریقہ نبی کریم ﷺ نوجوانوں پر بہت اعتماد کرتے تھے۔ آپ نے 18 سالہ حضرت اسامہ بن زید کو لشکر کا امیر بنایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ نوجوان کو ذمہ داری دینے سے اس کی شخصیت نکھرتی ہے۔

والدین کے لیے ٹپس

  1. حکم دینا چھوڑ دیں: اب وہ بچہ نہیں رہا۔ اس سے مشورہ لیں، اس کی رائے کا احترام کریں۔ اسے محسوس کرائیں کہ وہ گھر کا اہم فرد ہے۔

  2. دوستانہ رویہ: اگر آپ اس کے دوست نہیں بنیں گے، تو وہ باہر غلط دوست ڈھونڈ لے گا۔ اس کے ساتھ بیٹھیں، اس کی باتیں سنیں اور تنقید کم کریں۔

  3. جاسوسی نہ کریں: اس کے موبائل یا ذاتی چیزوں کی تلاشی نہ لیں۔ شک رشتوں کو کھا جاتا ہے۔

دعا کا اثر اگر بچہ بات نہیں مان رہا تو اس سے لڑنے کے بجائے مصلے پر اللہ سے مانگیں۔ والدین کی دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے جو پتھر دل کو بھی موم کر سکتی ہے۔

اختتامیہ اپنے نوجوان بیٹے یا بیٹی کو "بوجھ" نہ سمجھیں، یہ آپ کا مستقبل ہیں۔ ان کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آئیں، کل یہی آپ کا سہارا بنیں گے۔