تمہید: اولاد، اللہ کی امانت اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ آج کے دور میں جب موبائل اور انٹرنیٹ نے ہر گھر میں ڈیرہ ڈال لیا ہے، بچوں کی اسلامی تربیت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن اگر بنیاد مضبوط ہو تو کوئی فتنہ آپ کے بچے کو نہیں بگاڑ سکتا۔
تربیت کے تین سنہری اصول بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ بچوں کی عمر کو تین حصوں میں تقسیم کرو:
-
پہلے 7 سال (پیار): بچے کے ساتھ کھیلیں، اسے پیار دیں۔ اس عمر میں سختی کرنے سے بچہ ضدی ہو جاتا ہے۔
-
دوسرے 7 سال (ادب): 7 سے 14 سال کی عمر سیکھنے کی ہے۔ انہیں نماز، قرآن اور اخلاق سکھائیں۔ اس عمر میں تھوڑی سختی جائز ہے۔
-
تیسرے 7 سال (دوستی): 14 سال کے بعد بچہ جوان ہوتا ہے۔ اب اسے حکم نہ دیں بلکہ دوست بنا کر سمجھائیں۔ ورنہ وہ گھر سے دور بھاگے گا۔
والدین کے لیے نصیحت
-
عملی نمونہ بنیں: بچہ نصیحت سے نہیں، عمل سے سیکھتا ہے۔ اگر آپ جھوٹ بولیں گے تو بچہ بھی جھوٹ بولے گا۔
-
اولاد کے لیے دعا: حضرت یعقوبؑ اور حضرت ابراہیمؑ اپنی اولاد کے لیے بہت دعا کرتے تھے۔ آپ بھی ہمیشہ پڑھیں: ((رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ))۔
-
برابری: تمام بچوں میں انصاف کریں۔ کسی ایک کو زیادہ پیار دینا دوسرے کے دل میں نفرت پیدا کرتا ہے۔
اختتامیہ یاد رکھیں، آپ کا بچہ آپ کے لیے "صدقہ جاریہ" بن سکتا ہے۔ اس کی تربیت پر محنت کریں، یہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔