تمہید: دنیا امتحان ہے، آرام گاہ نہیں
کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ اس دنیا میں آرام کرنے کے لیے آئے ہیں؟ یہی وہ غلط فہمی ہے جو صدمے کا باعث بنتی ہے۔ اللہ نے دنیا کو "دارالامتحان" (تکلیف کی جگہ) اور جنت کو "دارالسلام" (سلامتی کا گھر) بنایا ہے۔ اس سفر میں آپ کو لہروں کا سامنا کرنا ہی پڑے گا: بیماری، پیارے کی جدائی، مالی نقصان، یا لوگوں کی باتیں، ان لہروں میں ڈوبنے سے بچنے کا واحد جہاز "صبر" ہے۔ صبر کمزوری کا نام نہیں، بلکہ یہ "ڈٹ جانے" اور "زبان کو شکایت سے روکنے" کا نام ہے۔ اس مضمون میں ہم صبر کے اس طاقتور ہتھیار کو اپنانے کا طریقہ اور "صبرِ جمیل" کا مقام حاصل کرنا سیکھیں گے۔
صبر کی تین اقسام (آپ کو کس کی ضرورت ہے؟)
صبر صرف ایک چیز نہیں، یہ ایک درخت ہے جس کی تین شاخیں ہیں، اور ایمان ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا:
1. نیکی پر صبر: سردی میں فجر کے لیے اٹھنا صبر مانگتا ہے۔ نظریں جھکانا صبر مانگتا ہے۔ یہ مجاہدین کا صبر ہے۔
2. گناہ سے رکنے پر صبر: نفس حرام (پیسہ، تعلقات، سستی) کی خواہش کرتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے طاقتور ارادہ چاہیے۔ یہ طاقتور لوگوں کا صبر ہے۔
3. مصیبت پر صبر: جب کوئی آفت (موت، بیماری، غریبی) آ جائے، تب انسان کا اصل کردار سامنے آتا ہے۔ یہ راضی رہنے والوں کا صبر ہے۔
"صبرِ جمیل" کیا ہے؟
حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب اپنے پیارے بیٹے یوسف کو کھو دیا تو فرمایا: "فَصَبْرٌ جَمِيلٌ" (پس صبر ہی بہتر ہے)۔ عام صبر اور صبرِ جمیل میں کیا فرق ہے؟
- عام صبر: اس میں انسان لوگوں سے شکوہ کرتا ہے، روتا پیٹتا ہے اور دل تنگ ہوتا ہے۔
- صبرِ جمیل: یہ وہ صبر ہے جس میں مخلوق سے کوئی شکوہ نہ ہو۔ آپ اپنا درد پی جاتے ہیں، مسکراتے ہیں، اور صرف اللہ سے شکایت کرتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں: "یا رب! میں تیرے فیصلے پر راضی ہوں، بس مجھے ہمت دے۔"
صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں
1. بے حساب اجر: تمام عبادات کا اجر مقرر ہے (دس گنا سے سات سو گنا تک)، سوائے صبر کے! اللہ فرماتا ہے: "بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے (بے انتہا) دیا جائے گا۔" قیامت کے دن ان پر اجر بارش کی طرح برسے گا۔
2. اللہ کا ساتھ: "بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" یہ صرف علم کا ساتھ نہیں، بلکہ اللہ کی مدد اور حفاظت کا ساتھ ہے۔ جب اللہ آپ کے ساتھ ہو تو کون آپ کا کچھ بگاڑ سکتا ہے؟
3. گناہوں کی صفائی: مسلمان کو جو بھی دکھ، درد، غم یا تکلیف پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔ مصیبت دنیا میں گناہوں کی "دھلائی" ہے تاکہ آپ اللہ سے پاک صاف ہو کر ملیں۔
عملی اقدامات: مصیبت میں صبر کیسے کریں؟
1. پہلا جھٹکا: نبی ﷺ نے فرمایا: "صبر تو صدمے کے آغاز میں ہی معتبر ہے۔" بری خبر سنتے ہی خود کو سنبھالیں اور کہیں: "إنا لله وإنا إليه راجعون"۔ یہ جملہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔
2. اپنے سے نیچے والوں کو دیکھیں: اگر آپ کی ٹانگ ٹوٹی ہے، تو اسے دیکھیں جس کی ٹانگ کٹ گئی ہے۔ اگر مال گیا ہے، تو اسے دیکھیں جس کا ایمان گیا ہے۔ دوسروں کا دکھ دیکھ کر اپنا دکھ چھوٹا لگتا ہے۔
3. دنیا کی حقیقت: یہ درد ہمیشہ نہیں رہے گا۔ ہم یہاں مہمان ہیں، اصل ملاقات جنت میں ہوگی۔ یہ بس گھڑی بھر کا صبر ہے، پھر ہمیشہ کا آرام ہے۔
اختتامیہ
غمگین نہ ہوں، اللہ آپ کے ساتھ ہے۔ جو مصیبت آپ پر آئی ہے وہ آپ کو برباد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ آپ کے صبر کو آزمانے اور آپ کے ایمان کو نکھارنے کے لیے آئی ہے۔ سونا آگ میں تپ کر ہی چمکتا ہے۔ اس اندھیری رات کے بعد سویرا ضرور آئے گا۔ اپنے آنسو پونچھیں، سر اٹھائیں اور کہیں: "یا رب! میں راضی ہوں، تو بھی مجھ سے راضی ہو جا۔"