نمازِ استخارہ کا مکمل گائیڈ: اللہ سے مشورہ کرنے کا صحیح طریقہ (طریقہ، دعا، اور نتائج کی علامات)

30 دسمبر 2025
Hands raised in Dua for Salat Al-Istikhara, seeking divine guidance from Allah amidst rays of light.

تمہید: انسانی حیرانی اور خدائی حکمت
زندگی کے موڑ پر انسان اکثر فیصلہ کرنے میں گھبرا جاتا ہے۔ کیا مجھے یہ نوکری کرنی چاہیے؟ کیا یہ رشتہ میرے لیے بہتر ہے؟ کیا میں بیرون ملک سفر کروں؟ انسانی عقل محدود ہے، ہم صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، جبکہ غیب کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہمیں "نمازِ استخارہ" کا تحفہ دیا ہے، جو علام الغیوب سے براہ راست رابطے کا ذریعہ ہے۔ یہ صرف ایک نماز نہیں، بلکہ اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ اس طرح ہم اپنی "حیرانی" سے نکل کر "یقین" کی طرف آتے ہیں۔ اس تفصیلی گائیڈ میں ہم جانیں گے کہ استخارہ کیا ہے، اسے کیسے ادا کیا جائے، اور اس کا جواب کیسے ملتا ہے۔

استخارہ کیا ہے اور ہمیں اس کی ضرورت کیوں ہے؟
لغوی طور پر استخارہ کا مطلب ہے "خیر طلب کرنا"۔ شرعی اصطلاح میں یہ ایک خاص نماز اور دعا ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب سے جائز کاموں میں خیر مانگتا ہے۔
نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو تمام کاموں میں استخارہ سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ ہمیں اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ:
1. ہم غیب نہیں جانتے: بہت سی چیزیں بظاہر اچھی لگتی ہیں لیکن حقیقت میں نقصان دہ ہوتی ہیں۔
2. جذبات دھوکہ دیتے ہیں: محبت یا جوش میں ہم صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے۔
3. برکت کی طلب: اگر فیصلہ صحیح بھی ہو، تو استخارہ کے ذریعے ہم اللہ سے اس کام میں برکت اور آسانی مانگتے ہیں۔

نمازِ استخارہ کا طریقہ (مرحلہ وار)
استخارہ سنتِ مؤکدہ ہے اور اس کے لیے دو رکعت نفل ادا کیے جاتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے:
1. وضو: اچھی طرح وضو کریں اور قبلہ رخ ہو جائیں۔
2. نیت: دل میں نیت کریں کہ میں اس خاص کام (شادی، کاروبار وغیرہ) کے لیے استخارہ کی نماز پڑھ رہا ہوں۔
3. نماز: دو رکعت نفل ادا کریں۔ بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ الکافرون اور دوسری میں سورہ الاخلاص پڑھیں، لیکن کوئی بھی سورت پڑھی جا سکتی ہے۔
4. دعا: سلام پھیرنے کے بعد انتہائی عاجزی سے ہاتھ اٹھائیں اور مسنون دعائے استخارہ پڑھیں۔
5. حاجت کا ذکر: دعا میں جب "هَذَا الأَمْرَ" (یہ کام) پر پہنچیں تو اپنی ضرورت کا نام لیں (مثلاً: فلاں جگہ رشتہ کرنا، یا فلاں کاروبار شروع کرنا)۔

دعائے استخارہ (ترجمہ اور تشریح کے ساتھ)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت پڑھے اور پھر یہ دعا کرے:
((اللَّهُمَّ إني أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ. اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ (یہاں کام کا نام لیں) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ- فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ. وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي -أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ- فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ)).

دعا کے اہم نکات:
- "اپنے علم اور قدرت سے": بندہ اقرار کرتا ہے کہ میں جاہل اور کمزور ہوں، سارا علم اور طاقت اللہ کے پاس ہے۔
- "اسے میرے لیے آسان کر": صرف خیر ہونا کافی نہیں، اس کا حصول آسان ہونا بھی ضروری ہے۔
- "مجھے اس سے پھیر دے": کبھی کبھی چیز تو ہم سے دور ہو جاتی ہے لیکن دل وہیں اٹکا رہتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! میرا دل بھی اس سے اچاٹ کر دے تاکہ سکون ملے۔
- "مجھے اس پر راضی کر دے": سب سے بڑی کامیابی رضا بالقضاء ہے۔ جو ملے اس پر خوش رہنا۔

استخارہ کے بارے میں غلط فہمیاں
1. خواب کا انتظار کرنا: یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ استخارہ کے بعد خواب آنا ضروری ہے۔ یہ غلط ہے۔ استخارہ کا جواب حالات کے سازگار ہونے یا رکاوٹیں آنے کی صورت میں ملتا ہے۔
2. حرام یا فرض میں استخارہ: شراب پینے یا نماز پڑھنے کے لیے استخارہ نہیں ہوتا۔ یہ صرف جائز (مباح) کاموں کے لیے ہے۔
3. دوسروں سے استخارہ کروانا: استخارہ ذاتی دعا ہے۔ کوئی دوسرا آپ کے لیے وہ تڑپ نہیں رکھ سکتا جو آپ کے دل میں ہے۔ خود دعا مانگیں، اللہ مضطر کی دعا سنتا ہے۔
4. تسبیح یا قرآن فال: تسبیح کے دانوں سے یا قرآن کھول کر فال نکالنا بدعت ہے اور گناہ ہے۔ صرف نماز اور دعا پر عمل کریں۔

استخارہ کا جواب کیسے معلوم ہوگا؟
نماز اور دعا کے بعد اللہ پر بھروسہ کر کے کام شروع کر دیں:
- خیر کی علامت: اگر وہ کام آپ کے حق میں بہتر ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اسباب پیدا کر دے گا، رکاوٹیں دور ہوں گی اور آپ کا دل مطمئن ہو جائے گا۔
- شر کی علامت: اگر وہ کام برا ہے تو اللہ آپ کے دل کو اس سے پھیر دے گا، یا اچانک ایسی رکاوٹیں آئیں گی کہ وہ کام نہیں ہو سکے گا۔
- اگر کشمکش برقرار رہے: آپ استخارہ بار بار (سات بار تک) دہرا سکتے ہیں اور تجربہ کار لوگوں سے مشورہ (استشارہ) بھی کریں۔

استخارہ کا بہترین وقت
مکروہ اوقات (سورج نکلتے وقت، زوال کے وقت، اور غروب کے وقت) کے علاوہ کسی بھی وقت استخارہ کیا جا سکتا ہے۔
سب سے بہترین وقت رات کا آخری پہر (تہجد) ہے، کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

اختتامیہ: فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں
نمازِ استخارہ مستقبل کی فکر اور پریشانی کا بہترین علاج ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ بہترین فیصلہ وہ نہیں جو ہم چاہتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ جب آپ خلوص دل سے استخارہ کر لیں تو جان لیں کہ آپ کا معاملہ "محفوظ ہاتھوں" میں ہے۔ پرسکون ہو جائیں، کیونکہ اللہ جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ آپ کے لیے سراپا خیر ہوگا، چاہے ابھی آپ کو سمجھ نہ آ رہا ہو۔