نمازِ جنازہ کا طریقہ اور تعزیت کے مسائل: میت کو کیسے رخصت کریں؟ (4 تکبیرات اور مسنون دعائیں)

31 دسمبر 2025
Muslims performing Salat Al-Janazah (Funeral Prayer) over a deceased person, representing the final farewell in Islam.

تمہید: آخری الوداع
موت ایک اٹل حقیقت ہے۔ ہم سب کو ایک نہ ایک دن اپنے پیاروں کو الوداع کہنا ہے، یا لوگ ہمیں الوداع کہیں گے۔ "نمازِ جنازہ" وہ آخری تحفہ ہے جو آپ میت کو دفن ہونے سے پہلے دے سکتے ہیں۔ یہ صرف ایک رسم نہیں، بلکہ اللہ کے ہاں میت کے لیے آپ کی "سفارش" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جس میت پر مسلمانوں کی ایک جماعت (جو سو تک پہنچ جائے) نماز پڑھے اور اس کی سفارش کرے، تو ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے۔" افسوس کی بات ہے کہ بہت سے لوگ جنازے میں خاموش کھڑے رہتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ تکبیروں کے درمیان کیا پڑھنا ہے! اس گائیڈ میں ہم نمازِ جنازہ کا طریقہ اور تعزیت کے آداب سیکھیں گے۔

نمازِ جنازہ کا حکم اور فضیلت
حکم: یہ "فرضِ کفایہ" ہے۔ اگر کچھ لوگ ادا کر لیں تو سب بری الذمہ ہو جاتے ہیں، اور اگر کوئی نہ پڑھے تو سب گنہگار ہوتے ہیں۔
ثواب: "جو جنازے میں نماز تک شریک ہو اسے ایک قیراط ثواب ملتا ہے، اور جو تدفین تک ساتھ رہے اسے دو قیراط۔ پوچھا گیا دو قیراط کتنے ہیں؟ فرمایا: دو بڑے پہاڑوں (جبل احد) کے برابر۔"

نمازِ جنازہ کا طریقہ (4 تکبیرات)
اس نماز میں رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا، یہ صرف کھڑے ہو کر 4 تکبیروں کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔

1. پہلی تکبیر:
- ہاتھ اٹھا کر "اللہ اکبر" کہیں اور ہاتھ باندھ لیں۔
- "ثناء" پڑھیں (سبحانک اللھم...)، اور پھر "سورہ فاتحہ" پڑھیں۔

2. دوسری تکبیر:
- "اللہ اکبر" کہیں۔ (ہاتھ اٹھانا یا نہ اٹھانا دونوں جائز ہیں)۔
- "درودِ ابراہیمی" پڑھیں (جو نماز کے آخری تشہد میں پڑھتے ہیں: اللھم صل علی محمد...)۔

3. تیسری تکبیر (سب سے اہم):
- "اللہ اکبر" کہیں۔
- اب میت کے لیے خلوص دل سے دعا کریں۔ یہی اس نماز کی جان ہے۔
- مسنون دعا: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا، وَصَغِيرِنَا وَكَبيرِنَا، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا..."
- (ترجمہ: اے اللہ! ہمارے زندوں اور مردوں کو، حاضر اور غائب کو، چھوٹوں اور بڑوں کو بخش دے...)۔
- یا یہ دعا پڑھیں: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ، وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ..."۔

4. چوتھی تکبیر:
- "اللہ اکبر" کہیں۔
- تھوڑی دیر رک کر سب کے لیے مغفرت کی دعا کریں: "اللهم لا تحرمنا أجره..."
- پھر دائیں طرف ایک سلام پھیر دیں۔ (دو سلام بھی پھیر سکتے ہیں)۔

تعزیت کے آداب
تعزیت کا مطلب ہے غمزدہ خاندان کو تسلی دینا اور صبر کی تلقین کرنا۔
1. کیا کہیں؟: بہترین الفاظ وہی ہیں جو نبی ﷺ نے فرمائے: "بے شک اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک مقرر وقت ہے۔ پس صبر کرو اور اجر کی امید رکھو۔" عام الفاظ جیسے "اللہ ان کی مغفرت کرے اور آپ کو صبر دے" بھی درست ہیں۔
2. بدعات سے بچیں: نوحہ کرنا (چیخنا، کپڑے پھاڑنا) حرام ہے۔ سوگ میں کھانا پکانے کی دعوتیں کرنا (جیسے تیجا، چالیسواں) سنت سے ثابت نہیں۔ بلکہ سنت یہ ہے کہ پڑوسی میت کے گھر کھانا بھیجیں۔
3. مدت: تعزیت کا وقت تین دن تک ہے، اس کے بعد غم یاد دلانا مناسب نہیں۔

قبرستان کی زیارت
قبرستان جانا مردوں کے لیے سنت ہے تاکہ آخرت یاد آئے۔
- داخل ہونے کی دعا: "السَّلامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلاحِقُونَ..."۔

اختتامیہ: تیار رہیں
پتہ نہیں کب آپ کو کسی قریبی کے جنازے کی امامت کرنی پڑ جائے۔ ان دعاؤں کو یاد کر لیں۔ جنازوں میں شرکت کیا کریں، یہ سخت دل کو نرم کرتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ ایک دن ہمیں بھی اسی طرح چارپائی پر لیٹنا ہوگا اور ہم دوسروں کی دعاؤں کے محتاج ہوں گے۔