"صلہ رحمی کی فضیلت اور قطع تعلقی کا عذاب: رزق اور عمر میں برکت کا نبوی نسخہ"

29 دسمبر 2025
A heartwarming gathering of a large extended family (grandparents, parents, children) sharing a meal on a rug in a garden, laughing and bonding.

تمہید: اللہ سے تعلق "رحم" (رشتہ داری) کا نام اللہ نے اپنے نام "الرحمن" سے مشتق کیا ہے۔ حدیثِ قدسی ہے کہ اللہ فرماتا ہے: "جو اسے (رشتہ داری کو) جوڑے گا، میں اسے جوڑوں گا (اپنی رحمت سے)، اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا۔" اس لیے رشتہ داروں سے تعلق توڑنا درحقیقت اللہ سے تعلق توڑنا ہے۔

رزق اور عمر میں برکت کا راز ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کا رزق بڑھے اور عمر لمبی ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ((مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، وَأَنْ يُنْسَأَ لَهُ فِي أَثَرِهِ، فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ)) (جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی ہو اور عمر میں اضافہ ہو، وہ صلہ رحمی کرے)۔

اصل صلہ رحمی کیا ہے؟ رشتہ دار کے گھر جانے کے بدلے اس کے گھر جانا "بدلہ" ہے، صلہ رحمی نہیں۔ اصل صلہ رحمی یہ ہے کہ "جو تم سے توڑے، تم اس سے جوڑو"۔ اگر کوئی رشتہ دار آپ سے ناراض ہے یا برا سلوک کرتا ہے، پھر بھی آپ اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں، یہ ہے اصل نیکی۔

رشتہ کیسے نبھائیں؟

  1. مدد کرنا: اگر وہ غریب ہیں تو ان کی مالی مدد کریں۔ رشتہ دار کو صدقہ دینے کا دوہرا ثواب ملتا ہے۔

  2. خیر خیریت پوچھنا: فون پر بات کر لیں یا پیغام بھیج دیں۔

  3. درگزر: پرانی لڑائیوں اور جائیداد کے جھگڑوں کو بھلا دیں۔ معاف کرنا سیکھیں۔

اختتامیہ انا (Ego) کو ختم کریں اور آج ہی کسی ناراض رشتہ دار کو فون کریں۔ یہ چھوٹا سا عمل آپ کے رزق کے دروازے کھول دے گا اور اللہ آپ سے راضی ہو جائے گا۔