تمہید: آگ کا امتحان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی امتحانوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن "آگ کا واقعہ" توکل اور یقین کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جب انہوں نے نمرود اور اس کی قوم کے بتوں کو توڑا، تو ظالم بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ انہیں زندہ جلا دیا جائے۔
تاریخ کی سب سے بڑی آگ ایک بہت بڑا الاؤ تیار کیا گیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ کوئی اس کے قریب نہیں جا سکتا تھا۔ حضرت ابراہیمؑ کو منجنیق (Catapult) کے ذریعے آگ میں پھینکنے کا انتظام کیا گیا۔ زمین اور آسمان کی مخلوق گھبرا گئی، لیکن خلیل اللہ کا دل مطمئن تھا۔
حسبنا اللہ ونعم الوکیل جب انہیں آگ میں پھینکا جا رہا تھا، تو جبرائیل امینؑ مدد کے لیے آئے۔ آپؑ نے فرمایا: "مجھے تمہاری ضرورت نہیں، اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور وہی میرے لیے کافی ہے۔" آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے: "حسبنا اللہ ونعم الوکیل"۔
گلزار بن گئی آگ اللہ نے آگ کو حکم دیا: ((یَا نَارُ کُونِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ)) (اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا)۔ آگ کی تپش ختم ہو گئی، صرف روشنی باقی رہی۔ وہ آگ حضرت ابراہیمؑ کے لیے پھولوں کا باغ بن گئی۔ صرف ان کی رسی جلی، جسم کا ایک بال بھی نہ بیکا ہوا۔
اس واقعے کا سبق
-
اسباب اللہ کے پابند ہیں: آگ جلانے کی پابند ہے، لیکن اللہ کے حکم کے بغیر وہ کچھ نہیں کر سکتی۔
-
توکل کی طاقت: جب انسان تمام سہاروں کو چھوڑ کر صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو اللہ ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
-
حق کی فتح: باطل جتنا بھی طاقتور ہو، حق کے سامنے مٹ جاتا ہے۔
اختتامیہ آج بھی اگر نمرودی آگ ہو، تو اللہ ابراہیم جیسا یقین رکھنے والوں کو بچا لیتا ہے۔ اپنی مشکلات میں اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں، وہ آپ کی پریشانیوں کی آگ کو ٹھنڈا کر دے گا۔