تمہید: موت کا گھیرا ذرا اس منظر کا تصور کریں: سامنے ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر۔ بنی اسرائیل پر خوف طاری تھا، وہ چیخ اٹھے: "ہم تو پکڑے گئے!" موت یقینی نظر آ رہی تھی۔ لیکن اس ہجوم میں ایک شخص ایسا تھا جس کا دل سمندر سے زیادہ گہرا اور پہاڑ سے زیادہ مضبوط تھا—وہ تھے اللہ کے کلیم، حضرت موسیٰ علیہ السلام۔
کلا! ان معی ربی جب قوم نے مایوسی پھیلائی، تو موسیٰؑ نے تاریخی جملہ کہا: ((كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ)) (ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور مجھے راستہ دکھائے گا)۔ یہ جملہ توکل کی انتہا ہے۔
سمندر کا پھٹنا اللہ نے حکم دیا: "اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔" لاٹھی لگتے ہی پانی پھٹ گیا اور دونوں طرف پانی کی دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ موسیٰؑ اور ان کی قوم پار کر گئے، لیکن جب فرعون نے تعاقب کیا تو اللہ نے پانی کو ملنے کا حکم دیا۔ فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو کر عبرت کا نشان بن گیا۔
عاشورہ کا دن یہ معجزہ 10 محرم (عاشورہ) کو پیش آیا۔ اس لیے ہم اس دن روزہ رکھتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
اس واقعے کا سبق
-
اللہ کی معییت: جب انسان کو یقین ہو جائے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے، تو خوف ختم ہو جاتا ہے۔
-
ظالم کا انجام: فرعون جو خود کو رب کہتا تھا، پانی کی ایک موج کا مقابلہ نہ کر سکا۔
-
امید کا دامن: جب سارے دروازے بند ہو جائیں، تب اللہ کی مدد آتی ہے۔
اختتامیہ اگر آپ مسائل کے سمندر میں گھرے ہیں، تو موسیٰؑ والا یقین پیدا کریں۔ اللہ آپ کے لیے بھی مشکلات کے درمیان سے نجات کا راستہ بنا دے گا۔