تمہید: صبر کا پہاڑ حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے وہ جلیل القدر پیغمبر ہیں جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو تبلیغ کی۔ تصور کریں، اتنی لمبی زندگی میں صرف چند لوگ ایمان لائے۔ باقی سب نے ان کا مذاق اڑایا اور پتھر برسائے۔ لیکن آپ نے ہمت نہیں ہاری۔
خشکی پر کشتی جب قوم کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے عذاب کا فیصلہ کیا۔ حکم ہوا کہ ایک بڑی کشتی بناؤ۔ لوگ نوحؑ کا مذاق اڑاتے کہ "دیکھو! اب یہ بڑھاپے میں بڑھئی بن گئے ہیں، خشکی پر کشتی چلا رہے ہیں۔" لیکن آپ جانتے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
طوفانِ نوح آسمان کے دروازے کھل گئے اور زمین سے پانی ابل پڑا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر چیز ڈوبنے لگی۔ موجیں پہاڑوں جیسی تھیں۔ حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کو پکارا: "بیٹا! ہمارے ساتھ سوار ہو جا۔" لیکن وہ پہاڑ پر چڑھ کر بچنے کی کوشش کرنے لگا۔ نوحؑ نے فرمایا: "آج اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔" اسی وقت ایک موج آئی اور وہ غرق ہو گیا۔
کشتی جودی پہاڑ پر یہ تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب تھا۔ جب سب کافر ہلاک ہو گئے تو اللہ نے زمین کو پانی نگلنے کا حکم دیا۔ کشتی "جودی" پہاڑ پر رکی اور دنیا دوبارہ بسی۔
اس واقعے کا سبق
-
اللہ کی اطاعت: عقل کہتی تھی کشتی سمندر میں بنتی ہے، لیکن وحی نے کہا صحرا میں بناؤ۔ نوحؑ نے عقل کے بجائے وحی کی مانی اور نجات پائی۔
-
خونی رشتہ نہیں، ایمانی رشتہ: نبی کا بیٹا اور بیوی ہونے کے باوجود وہ بچ نہ سکے، کیونکہ ایمان شرط ہے۔
-
صبر: 950 سال کی محنت رائیگاں نہیں گئی، اللہ نے انہیں انسانیت کا دوسرا باپ بنا دیا۔
اختتامیہ نوحؑ کی کشتی آج ہمارے لیے "سنت اور قرآن" کی مانند ہے۔ جو اس پر سوار ہو گیا وہ دنیا اور آخرت کے فتنوں سے بچ جائے گا۔