حضرت یونس علیہ السلام اور مچھلی کا واقعہ: جب اندھیروں میں اللہ کی مدد آئی

25 دسمبر 2025
Wide shot of a turbulent dark ocean under a starry night sky with a massive whale breaching the surface, symbolizing the story of Prophet Yunus.

تمہید: مایوسی کے اندھیروں میں امید کا چراغ کیا آپ کبھی ایسی مشکل میں پھنسے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہ آتا ہو؟ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب زمین کے سارے دروازے بند ہو جائیں، تو آسمان کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ یہ کہانی مچھلی کے پیٹ میں قید ایک نبی کی ہے، لیکن اس کا سبق ہر اس انسان کے لیے ہے جو غموں کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔

سمندر کی لہریں اور مچھلی کا پیٹ حضرت یونس (علیہ السلام) اپنی قوم کی نافرمانی سے دلبرداشتہ ہو کر اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر بستی سے نکل گئے۔ کشتی میں سوار ہوئے، طوفان آیا، اور قرعہ اندازی کے بعد آپ کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ اللہ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ تصور کریں! گھٹا ٹوپ اندھیرا، سمندر کی گہرائی، اور موت کا خوف۔

وہ دعا جس نے عرش ہلا دیا اس خوفناک تنہائی میں حضرت یونسؑ نے کسی انسان کو نہیں پکارا، بلکہ اپنے رب کو پکارا۔ وہ الفاظ جو آج بھی ہر پریشان حال کے لیے اکسیر ہیں:

((لَّا إِلَٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ)) (تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک میں ہی ظالموں میں سے تھا)۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

  1. اپنی غلطی تسلیم کرنا: حضرت یونسؑ نے کوئی عذر پیش نہیں کیا، بلکہ اپنی غلطی مانی۔ جب انسان اپنی کوتاہی مان لیتا ہے تو اللہ کی رحمت جوش میں آ جاتی ہے۔

  2. اللہ کی یاد: قرآن کہتا ہے کہ اگر یونسؑ پہلے سے اللہ کی تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتے تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ خوشی کے دنوں میں اللہ کو یاد رکھو، وہ مشکل میں تمہیں یاد رکھے گا۔

  3. مومنوں کے لیے خوشخبری: اللہ نے فرمایا: "اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں۔" یہ وعدہ صرف یونسؑ کے لیے نہیں، بلکہ آپ کے اور میرے لیے بھی ہے۔

اختتامیہ اگر آپ کسی مصیبت میں گرفتار ہیں تو گھبرائیں نہیں۔ آیت کریمہ کا ورد کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اسی طرح نجات دے گا جیسے اس نے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے صحیح سلامت کنارے پر پہنچایا۔