تمہید: فتنوں کے دور میں نجات کا غار
نبی کریم ﷺ نے ہر جمعہ کو "سورہ کہف" پڑھنے کا حکم کیوں دیا؟ اور یہ دجال کے فتنے سے بچانے والی ڈھال کیوں ہے؟ ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں فتنوں کی لہریں ٹکرا رہی ہیں، اور ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے ایک "غار" (کہف) کی ضرورت ہے۔ سورہ کہف صرف چند سوئے ہوئے نوجوانوں کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ "زندگی گزارنے کا نصاب" ہے جو انسان کو پیش آنے والے چار بڑے فتنوں کا علاج بتاتی ہے: دین، مال، علم، اور طاقت کا فتنہ۔ اس مضمون میں ہم اس سورت کی گہرائی میں جائیں گے اور جانیں گے کہ یہ کہانیاں ہمیں تاریخ کے سب سے بڑے فتنے (دجال) سے کیسے بچاتی ہیں۔
جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھنے کے فضائل
1. نور: نبی ﷺ نے فرمایا: "جو شخص جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھتا ہے، اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان ایک نور روشن کر دیا جاتا ہے۔" یہ نور کوئی ظاہری روشنی نہیں، بلکہ "بصیرت" ہے جو اللہ آپ کے دل میں ڈال دیتا ہے۔ اس سے آپ ہفتے بھر کے اندھیروں میں حق اور باطل کی تمیز کر سکتے ہیں۔
2. دجال سے حفاظت: "جو سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کر لے، وہ دجال سے محفوظ ہو گیا۔" کیوں؟ کیونکہ دجال ان ہی فتنوں کے ساتھ آئے گا جو اس سورت میں بیان ہوئے ہیں (اس کے پاس جنت اور جہنم ہوگی، وہ مردوں کو زندہ کرے گا)۔ اس سورت کا فہم آپ کو اس کے دھوکے سے بچنے کا "ویکسین" دیتا ہے۔
3. سکینہ: یہ وہ سورت ہے جس کی تلاوت پر سکینہ نازل ہوتی ہے، جیسا کہ صحابی حضرت اسید بن حضیرؓ کے ساتھ ہوا جب فرشتے ان کی تلاوت سننے آ گئے۔
چار کہانیاں (سورت کے اہم مضامین)
یہ سورت 4 اہم کہانیوں کے گرد گھومتی ہے، اور ہر کہانی ایک خاص "فتنے" کا علاج ہے:
1. اصحابِ کہف (دین کا فتنہ):
یہ وہ نوجوان تھے جو ایک کافر معاشرے میں اپنے رب پر ایمان لائے جہاں موحدوں کو قتل کیا جاتا تھا۔ یہاں فتنہ "دین اور جان کا خوف" تھا۔
- علاج: "نیک صحبت" اور "الگ تھلگ ہو جانا"۔ یہ نوجوان اس لیے بچ گئے کیونکہ وہ آپس میں جڑے رہے اور غار میں پناہ لی، تو اللہ نے انہیں اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا۔
- سبق: اگر فساد کے دور میں دین خطرے میں ہو، تو اپنا "غار" ڈھونڈیں (مسجد، نیک دوست، دینی محفل) اور فتنوں سے دور ہو جائیں۔
2. دو باغوں والا شخص (مال کا فتنہ):
ایک شخص جسے اللہ نے مال اور باغات دیے، لیکن دنیا نے اسے دھوکے میں ڈال دیا۔ اس نے اپنے غریب دوست سے کہا: "میں تجھ سے زیادہ مالدار اور طاقتور ہوں"، اور اس نے قیامت کا انکار کر دیا۔
- علاج: "دنیا کی حقیقت سمجھنا"۔ اس کے مومن دوست نے اسے یاد دلایا کہ مال فانی ہے اور انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کہانی کا انجام دونوں باغوں کی تباہی پر ہوا تاکہ اسے سمجھ آئے کہ اصل رزاق اللہ ہے۔
- سبق: بینک بیلنس آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ اسے ایک لمحے میں ختم کر سکتا ہے۔ عاجزی ہی اصل قلعہ ہے۔
3. موسیٰ اور خضر (علم کا فتنہ):
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خیال ہوا کہ وہ زمین پر سب سے بڑے عالم ہیں، تو اللہ نے انہیں "خضر" سے سیکھنے بھیجا۔ ایک عجیب سفر جس میں موسیٰؑ نے بظاہر برے کام دیکھے (کشتی توڑنا، بچے کو قتل کرنا) لیکن حقیقت میں وہ خیر اور رحمت تھے۔
- علاج: "علم میں عاجزی" اور "صبر"۔
- سبق: ہر وہ چیز جو آپ کی آنکھ دیکھتی ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ جو رکاوٹ آپ کو بری لگ رہی ہو، وہ اللہ کی طرف سے بہت بڑی حفاظت ہو۔
4. ذوالقرنین (طاقت کا فتنہ):
ایک بادشاہ جسے اللہ نے زمین پر اقتدار دیا، اس نے مشرق سے مغرب تک سفر کیا۔ لیکن وہ ظالم نہیں بنا، بلکہ اپنی طاقت کو کمزوروں کی مدد اور یاجوج ماجوج سے بچانے کے لیے دیوار بنانے میں استعمال کیا۔
- علاج: "انصاف" اور "اخلاص"۔
- سبق: طاقت اور کرسی اعزاز نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ اپنی طاقت کو لوگوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں، ان پر رعب جمانے کے لیے نہیں۔
دجال سے تعلق
مسیح دجال ان چاروں فتنوں کو لے کر آئے گا:
- وہ دین میں آزمائے گا (خدائی کا دعویٰ)۔
- وہ مال میں آزمائے گا (زمین کے خزانے نکالے گا)۔
- وہ علم میں آزمائے گا (بارش برسائے گا اور غیب کی خبریں دے گا)۔
- وہ طاقت میں آزمائے گا (زمین پر قبضہ کرے گا)۔
ہر جمعہ کہف پڑھنا آپ کو یاد دلاتا ہے: استقامت غار میں ہے (دین)، مال فانی ہے (باغات)، غیب اللہ کا ہے (خضر)، اور طاقت اللہ کی ہے (ذوالقرنین)، لہذا دجال آپ کو بیوقوف نہیں بنا سکتا۔
اختتامیہ: اپنا ہفتہ وار ورد نہ چھوڑیں
اس سورت کے پڑھنے کا وقت جمعرات کے سورج غروب ہونے سے لے کر جمعہ کے سورج غروب ہونے تک ہے۔ اس وقت کو ضائع نہ کریں۔ اسے سمجھ کر پڑھیں، خود کو اصحاب کہف کے ساتھ غار میں اور موسیٰؑ کے ساتھ کشتی میں محسوس کریں، تاکہ اللہ آپ کو دنیا اور آخرت کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔