تمہید: ہم زمین کا بوجھ سر پر کیوں اٹھاتے ہیں؟
ہم "پریشانی کے دور" (Age of Anxiety) میں جی رہے ہیں۔ مستقبل کا خوف، روزی کی فکر، بچوں کی تربیت کی ٹینشن... یہ سب وہ بوجھ ہیں جو ہم نے اپنے سروں پر اٹھا رکھے ہیں، جس نے ہماری نیندیں اڑا دی ہیں۔ اس سب کی اصل وجہ "حقیقی توکل" کی کمی ہے۔ توکل صرف زبان سے کہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک "قلبی کیفیت" ہے جس میں انسان محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک مضبوط سہارے (اللہ) کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہ اپنی زندگی کی پیچیدہ فائلیں کائنات کے سب سے بڑے "منیجر" یعنی اللہ کے سپرد کرنے کا فن ہے۔ اس مضمون میں ہم اپنے دلوں کی تربیت کریں گے کہ اللہ پر بھروسہ کیسے کیا جائے اور پرندوں کی طرح بے فکر کیسے جیا جائے۔
توکل کیا ہے؟ (دل اور جسم کا فارمولا)
توکل کی تعریف یہ ہے: "نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے لیے اسباب اختیار کرنا، لیکن دل کا بھروسہ صرف اللہ پر رکھنا۔"
توکل کا سادہ فارمولا یہ ہے: (جسمانی محنت 100٪ + نتیجے کی فکر 0٪)۔
اس کا مطلب ہے کہ آپ محنت، پڑھائی یا علاج ایسے کریں جیسے سب کچھ اسی پر منحصر ہے، لیکن دل میں یقین رکھیں کہ یہ سب بیکار ہیں اگر اللہ کی مرضی نہ ہو۔
توکل اور تواکل میں خطرناک فرق
1. توکل (بھروسہ): یہ بہادروں کا کام ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے کچھ لوگوں کو مسجد میں فارغ بیٹھے دیکھا جو کہہ رہے تھے "ہم متوکل ہیں"۔ آپ نے انہیں مارا اور فرمایا: "تم متوکل نہیں، مفت خور (متواکل) ہو! آسمان سونا یا چاندی نہیں برساتا، جاؤ کام کرو۔"
2. تواکل (سستی): یہ ہاتھ پاؤں چھوڑ کر معجزے کا انتظار کرنا ہے۔ جیسے کوئی طالب علم پڑھے نہیں اور کہے "میرا اللہ پر توکل ہے کہ میں پاس ہو جاؤں گا"۔ یہ بیوقوفی اور دین کا مذاق ہے۔
- پرندے کی مثال: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر تم اللہ پر ایسا توکل کرو جیسا حق ہے، تو وہ تمہیں ایسے رزق دے جیسے پرندوں کو دیتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر لوٹتے ہیں۔" غور کریں، پرندے گھونسلے میں نہیں بیٹھے رہتے، وہ "نکلتے" ہیں اور محنت کرتے ہیں۔
توکل کے ثمرات (آپ کو کیا ملے گا؟)
1. اللہ کی کفایت: قرآن میں ہے: "اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔" (سورہ طلاق)۔ لفظ "حسبہ" (کافی) بہت بڑا ہے۔ کیا آپ کو اللہ کے سوا کسی اور وکیل کی ضرورت ہے؟
2. طاقت اور بہادری: توکل کرنے والا کسی انسان، کسی ظالم باس، یا کسی وائرس سے نہیں ڈرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ "سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے"۔
3. ذہنی سکون: توکل کرنے والا گہری نیند سوتا ہے، کیونکہ اس نے اپنی تدبیر کا بوجھ اللہ پر ڈال دیا ہے۔ وہ اپنے نفس کو کہتا ہے: "اے جان! اس کائنات کو چلانے والا جاگ رہا ہے، تو آرام کر۔"
عملی زندگی میں توکل کیسے کریں؟
1. رزق میں: نوکری یا کاروبار میں خوب محنت کریں، لیکن پیسے کے لیے ذلیل نہ ہوں اور نہ حرام کھائیں۔ آپ کا رزق آپ کی پیدائش سے پہلے لکھا جا چکا ہے۔
2. بیماری میں: بہترین ڈاکٹر کے پاس جائیں اور دوا کھائیں، لیکن دل کا تعلق "الشافی" سے جوڑیں، ڈاکٹر سے نہیں۔ دوا صرف ذریعہ ہے۔
3. مستقبل میں: منصوبہ بندی ضرور کریں، لیکن فکر میں خود کو ہلاک نہ کریں۔ جس اللہ نے بچپن میں آپ کو پالا تھا، وہ اب آپ کو ضائع نہیں کرے گا۔
سچی کہانی
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو جبرائیل امین آئے اور پوچھا: "کوئی حاجت ہے؟"۔ آپ چاہتے تو بارش یا مدد مانگ لیتے، لیکن آپ کا دل توکل سے بھرا ہوا تھا، فرمایا: "تم سے نہیں، اللہ سے ہے... حسبی اللہ و نعم الوکیل (میرے لیے اللہ کافی ہے)"۔ نتیجہ فوراً آیا: "اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔" آگ بجھی نہیں، لیکن اللہ کے حکم سے اس نے جلانا چھوڑ دیا!
اختتامیہ
اپنی پریشانیوں کی گٹھڑی اللہ کے دروازے پر رکھ دیں اور آگے بڑھ جائیں۔ یہ مت سوچیں کہ اللہ "کیسے" حل کرے گا، اس کے پاس کروڑوں راستے ہیں۔ آپ کا کام "کوشش" ہے اور اس کا کام "نتیجہ"۔ آج رات یہ کہہ کر سوئیں: "یا رب! میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، میرے لیے تدبیر کر، کیونکہ میں تدبیر کرنا نہیں جانتا۔"