تمہید: انسان خطاکار ہے، لیکن...
کیا آپ کسی پرانے گناہ کی وجہ سے دل میں بوجھ محسوس کرتے ہیں؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے گناہ اتنے زیادہ ہیں کہ اللہ معاف نہیں کرے گا؟ یہ سوچ گناہ سے بھی زیادہ خطرناک ہے! اللہ نے انسان کو کمزور پیدا کیا ہے، ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں، لیکن اس نے واپسی کا ایک ایسا دروازہ کھولا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا، جسے "توبہ" کہتے ہیں۔ توبہ صرف زبان سے "استغفراللہ" کہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی کے راستے کو "گناہ سے اطاعت" کی طرف موڑنے کا نام ہے۔ اس مضمون میں ہم سیکھیں گے کہ "توبہ نصوح" (خالص توبہ) کیسے کی جائے جو پچھلے تمام گناہوں کو دھو ڈالے۔
توبہ نصوح کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اللہ کے حضور توبہ کرو، خالص توبہ۔" (سورہ تحریم)۔
"نصوح" کا مطلب ہے ملاوٹ سے پاک (جیسے خالص شہد)۔ توبہ نصوح وہ سچی توبہ ہے جس کے بعد گناہ کی طرف واپسی کا ارادہ نہ ہو، اور جو دل کو گناہ کے اثرات سے ایسے صاف کر دے جیسے صابن میلے کپڑے کو۔
توبہ کی قبولیت کی شرائط
توبہ کے صحیح اور قبول ہونے کے لیے 3 شرطیں ہیں (اور اگر گناہ کا تعلق کسی انسان سے ہو تو 4 شرطیں):
1. گناہ فوراً چھوڑ دینا: یہ ممکن نہیں کہ انسان چوری کا مال ہاتھ میں رکھ کر توبہ کرے، یا زنا کرتے ہوئے توبہ کرے۔ سب سے پہلے گناہ کی رسی کاٹنی ہوگی۔
2. ندامت (شرمندگی): یہ توبہ کا سب سے بڑا رکن ہے۔ دل میں گناہ پر شدید دکھ اور جلن ہو، اور انسان سچے دل سے کہے: "کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا"۔
3. دوبارہ نہ کرنے کا پکا ارادہ: اللہ سے عہد کرے کہ اب اس گناہ کے پاس نہیں جاؤں گا۔ (اگر مستقبل میں انسانی کمزوری سے دوبارہ ہو جائے تو الگ بات ہے، لیکن توبہ کے وقت نیت سچی ہونی چاہیے)۔
4. (چوتھی شرط) حقوق العباد: اگر کسی کا پیسہ کھایا ہے تو واپس کریں، اگر کسی کی غیبت کی ہے تو معافی مانگیں۔ بندوں کے حقوق صرف استغفار سے معاف نہیں ہوتے۔
توبہ کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں
1. گناہوں کا نیکیوں میں بدلنا: یہ قرآن کی عجیب ترین آیت ہے! "مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیے، تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔" (سورہ فرقان)۔ سوچیں، آپ کا گناہوں کا رجسٹر نہ صرف صاف ہوگا بلکہ نیکیوں سے بھر جائے گا!
2. اللہ کی خوشی: اللہ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری (جس پر کھانا پانی ہو) صحرا میں گم ہو جائے، وہ موت کا انتظار کر رہا ہو، اور اچانک اسے سواری مل جائے! وہ غنی رب آپ کی واپسی پر خوش ہوتا ہے۔
3. اللہ کی محبت: "بے شک اللہ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔" توبہ آپ کو "مجرم" کے درجے سے اٹھا کر "محبوب" کے درجے پر لے جاتی ہے۔
صلوٰۃ التوبہ (خفیہ ہتھیار)
اگر آپ سے کوئی گناہ ہو جائے، تو مایوس نہ ہوں۔ فوراً اٹھیں، اچھی طرح وضو کریں اور دو رکعت (نماز توبہ) پڑھیں، پھر اللہ سے معافی مانگیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "کوئی بندہ ایسا نہیں جو گناہ کرے، پھر اٹھ کر وضو کرے اور نماز پڑھے اور استغفار کرے، مگر یہ کہ اللہ اسے معاف کر دیتا ہے۔"
امید کی ایک کہانی: 99 قتل کرنے والا
کیا آپ کا گناہ 100 قتل سے بھی بڑا ہے؟ نبی ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا واقعہ سنایا جس نے 99 قتل کیے تھے۔ اس نے ایک راہب سے پوچھا: کیا میری توبہ ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اس نے اسے بھی مار کر 100 پورے کر دیے۔ پھر ایک عالم سے پوچھا۔ عالم نے کہا: "تمہارے اور توبہ کے درمیان کون رکاوٹ بن سکتا ہے؟"۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اس شخص نے توبہ کی اور اللہ نے اسے قبول کر لیا، یہاں تک کہ زمین کو حکم دیا کہ وہ سکڑ جائے تاکہ وہ نیک لوگوں کی بستی کے قریب ہو کر مرے۔
اختتامیہ: دیر نہ کریں
شیطان آپ کو توبہ سے نہیں روکتا، لیکن وہ کہتا ہے: "کل توبہ کر لینا، یا بڑھاپے میں کر لینا"۔ یہی وہ جال ہے جس میں اکثر لوگ پھنستے ہیں۔ موت اچانک آتی ہے۔ اپنی زندگی کا نیا صفحہ ابھی، اسی لمحے شروع کریں اور کہیں: "یا رب! میں تیری طرف لوٹ آیا، مجھے قبول فرما۔"